:
Breaking News

ممتا بنرجی سے اندرا گاندھی تک، انتخابی ہار کے بعد بڑے سیاسی چہروں کے خلاف بغاوت کی پرانی کہانی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بھارتی سیاست میں انتخابی شکست اکثر بڑی جماعتوں کے اندرونی اختلافات کو سامنے لے آتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کھونے کے بعد کئی مضبوط سیاسی جماعتیں تقسیم کا شکار ہوئیں۔

بھارتی سیاست کی تاریخ میں انتخابی کامیابی جہاں کسی بھی جماعت اور لیڈر کو مضبوط بناتی ہے، وہیں ایک بڑی شکست کئی بار برسوں سے چھپے ہوئے اختلافات کو بھی سامنے لے آتی ہے۔ ملک کی سیاست میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب ایک طاقتور لیڈر کی گرفت کمزور ہوتے ہی پارٹی کے اندر بغاوت کے آثار نمایاں ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی سیاسی جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اقتدار اکثر جماعتوں کو متحد رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن جب اقتدار ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں۔

بھارتی سیاست میں یہ رجحان صرف کسی ایک جماعت یا ایک دور تک محدود نہیں رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک کئی بڑی جماعتوں نے انتخابی شکست کے بعد اندرونی بحران کا سامنا کیا ہے۔ کبھی قیادت کے مسئلے نے پارٹی کو تقسیم کیا، تو کبھی نظریاتی اختلافات نے نئی سیاسی جماعتوں کو جنم دیا۔

اندرا گاندھی اور کانگریس کا تاریخی بحران

سال 1977 کا عام انتخاب بھارتی سیاست کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ ایمرجنسی کے بعد ہونے والے انتخابات میں کانگریس کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور خود اندرا گاندھی بھی اپنی نشست ہار گئیں۔ یہ شکست صرف حکومت کے خاتمے تک محدود نہیں رہی بلکہ کانگریس کے اندر موجود اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے۔

پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں نے اندرا گاندھی کی قیادت پر سوال اٹھائے اور یہ بحث شروع ہوئی کہ کیا ایمرجنسی کے فیصلوں نے پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔ اس اختلاف نے آخرکار کانگریس کو تقسیم کی طرف دھکیل دیا۔ اندرا گاندھی نے اپنی الگ شناخت کے ساتھ کانگریس (آئی) قائم کی، جو بعد میں بھارتی سیاست کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھری۔

یہ واقعہ اس بات کی مثال بنا کہ اقتدار ختم ہوتے ہی پارٹی کے اندر دبے ہوئے اختلافات کس طرح کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔

جنتا پارٹی کا تجربہ اور اندرونی اختلافات

1977 میں اندرا گاندھی کے خلاف کئی مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں اور جنتا پارٹی وجود میں آئی۔ اس اتحاد کا مقصد کانگریس کو اقتدار سے ہٹانا تھا، لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اندرونی اختلافات شدت اختیار کرنے لگے۔

وزارت عظمیٰ کے مسئلے پر مورارجی دیسائی اور چودھری چرن سنگھ کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ جن سنگھ پس منظر رکھنے والے رہنماؤں کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے تعلقات کو لے کر بھی تنازع پیدا ہوا۔

ان اختلافات کے نتیجے میں حکومت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی اور 1979 میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔ 1980 کے انتخابات میں شکست کے بعد جنتا پارٹی مزید کمزور ہو گئی اور اس کے مختلف دھڑے الگ الگ راستوں پر چل پڑے۔

اسی دور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا قیام عمل میں آیا، جبکہ دیگر رہنماؤں نے بھی اپنی الگ سیاسی شناخت بنائی۔

عوامی دل سے علاقائی جماعتوں تک کا سفر

1980 اور 1990 کی دہائی میں بھی انتخابی شکست کے بعد کئی سیاسی جماعتوں میں تقسیم دیکھنے کو ملی۔ وی پی سنگھ کی قیادت میں قائم عوامی اتحاد نے 1989 میں اقتدار حاصل کیا، لیکن بعد کے سیاسی حالات میں یہ اتحاد زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔

اقتدار سے دوری کے بعد کئی علاقائی رہنماؤں نے اپنی الگ جماعتیں قائم کیں۔ اتر پردیش میں ملائم سنگھ یادو نے سماج وادی پارٹی قائم کی، جبکہ مغربی اتر پردیش میں اجیت سنگھ نے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرتے ہوئے الگ جماعت بنائی۔

یہ دور اس بات کی مثال تھا کہ قومی سطح کی جماعتوں کے کمزور ہونے کے بعد علاقائی قیادت کس طرح نئی سیاسی طاقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔

دراوڑی سیاست میں بھی نظر آیا یہی رجحان

جنوبی ہندوستان کی دراوڑی سیاست میں بھی جماعتوں کی تقسیم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ تمل سیاست میں کرشماتی قیادت ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ جب مضبوط قیادت کمزور ہوئی یا اندرونی اختلافات بڑھے تو نئی سیاسی جماعتوں نے جنم لیا۔

ایم جی رام چندرن نے اختلافات کے بعد الگ سیاسی راستہ اختیار کیا اور ایک نئی جماعت قائم کی، جو بعد میں تمل سیاست کی بڑی طاقت بنی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مضبوط شخصیات پر قائم جماعتوں میں قیادت کا بحران اکثر تقسیم کا سبب بنتا ہے۔

ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے سامنے چیلنج

مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس بھی ایک مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر ابھری۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں پارٹی نے کئی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور ریاست میں اپنی مضبوط گرفت قائم کی۔

لیکن بھارتی سیاست کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلسل کامیابی کے بعد آنے والی شکست اکثر جماعتوں کے اندرونی توازن کو متاثر کرتی ہے۔ اگر قیادت، تنظیم اور کارکنوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں تو اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

حالیہ سیاسی حالات میں ترنمول کانگریس سے متعلق سامنے آنے والی خبروں نے ایک بار پھر یہ بحث شروع کر دی ہے کہ کیا بڑی شکست کے بعد کسی جماعت میں اندرونی تبدیلیاں ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ تاہم کسی بھی سیاسی صورتحال کا حتمی اندازہ وقت کے ساتھ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

اقتدار، قیادت اور وفاداری کی سیاست

بھارتی سیاست میں ایک حقیقت بار بار سامنے آئی ہے کہ مضبوط قیادت جماعتوں کو متحد رکھتی ہے، لیکن انتخابی نقصان کے بعد یہی اتحاد آزمائش میں آ جاتا ہے۔ کئی رہنما جو کامیابی کے وقت قیادت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، مشکل وقت میں اپنی الگ سیاسی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ وہ شکست کے بعد کارکنوں کا اعتماد کیسے برقرار رکھیں اور اندرونی اختلافات کو کس طرح حل کریں۔

بھارتی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا بننا اور ٹوٹنا ایک مسلسل عمل رہا ہے۔ انتخابی شکست کسی بھی جماعت کے لیے صرف اقتدار کا نقصان نہیں ہوتی بلکہ یہ تنظیمی طاقت، قیادت اور اندرونی اتحاد کا امتحان بھی ہوتی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ وہی جماعتیں طویل عرصے تک مضبوط رہتی ہیں جو شکست کے بعد خود کو سنبھالنے، کارکنوں کو متحد رکھنے اور نئی حکمت عملی بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *